امریکا کی متعدد ریاستوں میں لاک ڈاون کیخلاف مظاہرے جاری
امريکا کی متعددریاستوں میں شہریوں کےلاک ڈاؤن کےخلاف مظاہرے جاری ہیں صدر ٹرمپ نے بھی لاک ڈاؤن کی سخت مخالفت کرتے ہوئےکہامعاشی اوردیگرسرگرمیوں کی بحالی کےلئےلاک ڈاؤن جلد ختم ہونا چاہیئے۔امریکا میں سات لاکھ 63 ہزار 883 افراد میں وائرس کی تصدیق، 40 ہزار 565 افراد ہلاک ہوچکےہیں۔
امریکا میں کوروناکےباعث صورتحال بد ترین ہوتی جارہی ہے۔کئی ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔
متعدد ریاستوں کےگورنرزاورصدرٹرمپ کےدرمیان اختلافات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔
گورنرنےصدرسےلاک ڈاؤن ختم نہ کرنےکی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پہلے طبی اشیاء اوردیگرحفاظتی
سامان کی قلت کےمعاملے کا فوری حل ضروری ہے۔
لیکن صدرٹرمپ لاک ڈؤن کھلنے پرمصرہیں کہامعاشی اور دیگرسرگرمیوں کی بحالی کےلئےلاک ڈاؤن جلدختم ہونا چاہیئے۔
ریاستوں کو ضرورت کے سامان کی فراہمی کو یقینی منارہے ہیں۔
دوسری جانب ڈونلڈٹرمپ نےکہا کہ ہم چاہتے کہ امریکی تفتیش کارچین جاکر اصل حقائق کاپتہ لگائیں ۔
چین کوخبردار کیا کہ اگر چین وبا کا 'ذمہ دار' نکلاتواسےسنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکا میں اب تک اب تک40 ہزار565 افرادہلاک ہوچکےہیں جبکہ سات لاکھ 64ہزارسےزائد متاثر ہیں۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔